The main decision in the next 24 to 20 hours against Pakistan

The main decision in the next 24 to 20 hours against Pakistan

army hif - The main decision in the next 24 to 20 hours against Pakistan

" پاکستان کے خلاف اگلے چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں میں اہم فیصلہ کرینگے " ۔۔ امریکہ

" پاکستان کے خلاف امریکی کاروائی پر عوامی امنگوں کے مطابق جواب دینگے ان شاءاللہ " ۔۔۔۔۔۔۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

امریکہ کے پاس کیا آپشنز ہیں؟

پاکستان کے شہری علاقوں میں ڈرون حملہ؟

کچھ دن پہلے جنرل باجوہ کی میٹس سے ملاقات کے فوراً بعد ائیر چیف نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے ہونے ڈرون گرانے کا حکم دے دیا تھا۔

انڈیا اور افغانستان کی مدد سے پاکستانی سرحدوں پر محدود جنگ ؟

اسکا امکان ذرا کم نظر آتا ہے لیکن احتیاطً افغانستان پر سعودی عرب اور شمالی اتحاد پر ایرانی اثرورسوخ کو استعمال کرنا چاہئے۔
انڈیا کو خبردار کرنا چاہئے کہ کسی جنگ کی صورت میں پاکستان چین کے ساتھ ملکر انکی آسام کی سات ریاستیں فوری طور پر انڈیا سے کاٹ دے گا جو ون بیلیٹ روڈ کے قریب ہیں۔
نیز افغانستان اور انڈیا کو کسی مہم جوئی کے جواب بے دریغ ایٹمی حملے سے بھی آگاہ کر دینا چاہئے۔ دونوں کے خلاف پاکستان کے نیوکلئر میزئلز کو جارحانہ پوزیشنز پر لے آنا چاہئے جیسے 2002ء میں کیا تھا۔

امریکہ افغانستان میں موجود داعش اور پاکستان میں موجود ان کے حامیوں کو متحرک کر سکتا ہے جس سے پاکستان بھر میں دہشت گردی کی ایک خوفناک لہر آسکتی ہے۔ خیال رہے کہ صرف چند دن پہلے خبریں آئی تھیں کہ امریکہ نے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کو بگرام میں پاکستان کے خلاف ایک مشترکہ بریفنگ دی ہے۔

( آپ نوٹ کیجیے ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹ کے بعد خوارج کے یہ حامی ملحدوں کی آواز میں آواز ملا کر کسی کورس کی صورت میں گا رہے ہیں کہ امریکہ کو دھوکہ کیوں دیا اور 33 ارب ڈالر کا حساب دو)

امریکہ پاکستان پر معاشی پابندیاں لگا سکتا ہے!

اس قسم کی باپندیاں پاکستان پر موثر ثابت نہیں ہوتیں۔ لیکن اگر پابندیاں زیادہ سخت ہوں جیسے پاکستان کے اثاثے فریز کرنا، امریکی امداد کے علاوہ 4 ارب ڈالر بند ہونا جو ہم امریکہ سے تجارت کی شکل کماتے ہیں اور امریکہ سے جو پاکستانی 2 سے 3 ارب ڈالر سالانہ بھیجتے ہیں ان کی بندش۔
ایک تو ہنڈی زندہ باد ۔۔۔۔۔۔ 🙂
دوسرا جواباً پاکستان ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے قرضے ادا کرنے سے انکار کر دے اور ان پر سالانہ جو آٹھ دس ارب ڈالر سود ادا کرتا ہے اس سے بھی انکار کر دے۔ نقصان برابر ہوجائیگا۔

لیکن ڈونلڈ ٹرمپ جیسا پاگل جو سب سے خطرناک کام کر سکتا ہے وہ یہ کہ نتائج کی پروا کیے بغیر پاکستان کے کسی شہری علاقے میں میزائل مار دے اور پھر پاکستان کے جوابی ردعمل کا انتظار کرے!

پاکستان کے پاس میزائلز کے خلاف ڈیفنس نہیں ہے۔ لیکن امریکہ کے پاس بھی افغانستان، کویت، عراق، بحرین، قطر، جبوتی اور صومالیہ وغیرہ میں موجود امریکی اڈوں پر پاکستانی میزائلز کے خلاف کوئی دفاع موجود نہیں۔
پاکستان بھی جواباً ایک دو امریکی اڈوں کو میزائلز سے اڑا کر امریکہ اور دنیا کے ردعمل کا انتظار کرسکتا ہے کہ اب اس جنگ کو بڑھا کر کوئی تیسری عالمی جنگ شروع کروانی ہے یا یہیں پر روکنا ہے۔

ویسے کل پاک فوج نے " اچانک " سمندری میزائل حربہ کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے جو خلیج میں متحرک امریکی بحری بیڑوں کو سمندر برد کر سکتا ہے۔۔۔ 🙂

پاکستان کو دنیا پر واضح کرنا چاہئے کہ اگر پاکستان کے خلاف کوئی جنگ چھیڑی گئی تو پاکستان نتائج کی پرواہ کیے بغیر ان تمام ممالک کو نیوکلئیر میزائلز کا نشانہ بنائیگا جہاں جہاں سے اسکو خطرات درپیش ہیں۔

ان کے علاوہ پاکستان کو کچھ اور اقدمات بھی کر لینے چاہئیں ۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کی منتخب جمہوری حکومت چین، روس، ایران، سعودی عرب اور ترکی کے فوری دورے کے امریکہ کے خلاف ان سے سفارتی تعاؤن حاصل کرے۔

یورپ اور برطانیہ کے دورے کر کے ٹرمپ کے پاگل پن کے نتیجے میں دنیا کو درپیش ایٹمی جنگ کے خطرات سے آگاہ کرے۔

پاکستان کو بھی امریکہ کی طرح اپنے فوجی اڈے پاکستان سے باہر قائم کرنے چاہئیں۔ پاکستان کو اس معاملے میں چین، وسطی ایشیائی ریاستوں، خلیجی ممالک، ایران اور روس سے بات کرنی چاہئے۔

پاکستان کو اپنی فوج کی کمانڈ صرف جی ایچ کیو تک محدود نہیں رکھنی چاہئے بلکہ پاکستان بھر میں کم از کم تین چار جگہوں تک پھیلا دینی چاہئے۔

اور پاکستان کو نیوکلئر سروائیول کیپبلٹی حاصل کرنی چاہیے جیسے کہ چین نے بیجنگ وغیرہ میں کر رکھی ہے۔ گہرے گڑھے ہی کھودنے ہیں نا اس میں کونسی راکٹ سائنس ہے؟

اور آخر میں آپ سب کے لیے پاکستان کے سپاہ سالار کا پیغام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"جب تک پاکستان کی جانیں دینے والی فوج اور قربانیاں دینی والی عوام موجود ہیں پاکستان کا کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔"

تحریر شاہدخان

نوٹ ۔۔۔۔۔۔۔ امریکی کال پر لیٹنے کا طعنہ دینے والے جو لوگ آج امریکہ کی دھمکی پر حاملہ بکریوں کی طرح ممیا رہے ہیں وہ اب ذرا حوصلہ کریں۔

Reply