Stubborn Imran Khan and his actions

Stubborn Imran Khan and his actions

0 46

Stubborn Imran Khan and his actions
ضدی عمران خان اور اس کے کارنامے

غالباً 1987 میں جمیکا کے مقام پر پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین ٹیسٹ میچ جاری تھا۔ ایک تو کالی آندھی، اوپر سے ہوم گراؤنڈ اور پھر ان کی خراب امپائرنگ اور غصیلا کراؤڈ۔ سب کچھ پاکستان کے خلاف جارہا تھا۔ ڈیسمنڈ ہینز اس وقت دنیا کا سب سے بہترین اوپنر ہوا کرتا تھا۔ وہ غالباً ففٹی کرچکا تھا کہ وسیم اکرم کی بال پر امپائر نے اسے ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا۔ ہینز نے احتجاجاً امپائر کے آگے بلا لہرایا اور پویلین کی طرف چل دیا۔ کپتان عمران خان اس وقت مڈآف پوزیشن پر کھڑا تھا اور وہ چلتے چلتے ہینز کے پاس سے گزرا جس نے اسے کہا کہ تم لکی ہو جو مجھے غلط آؤٹ دے دیا گیا۔ عمران خان نے یہ سننا تھا کہ اسے رکنے کا اشارہ کیا، امپائر کے پاس گیا اور اسے کہا کہ وہ بطور کپتان ہینز کو آؤٹ کرنے کی اپیل واپس لیتا ہے۔ دنیائے کرکٹ کا یہ ایک انوکھا واقعہ تھا۔ امپائر نے ہینز کو واپس بلا لیا۔ اس دفعہ جب وہ عمران خان کے پاس سے گزرا تو کپتان نے اسے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ اب تم کتنے لکی ثابت ہوتے ہو اپنی ٹیم کیلئے۔

اگلا اوور کروانے خان خود آیا اور تیسری گیند پر ہینز کو اپنے مشہور اِن ڈِپر کے زریعے بولڈ کرکے واپس بھیج دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1989 میں انڈیا کی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تھی۔ ایک ٹیسٹ میچ میں کپتان سری کانت بہت اچھا کھیل رہا تھا۔ غالباً وقار کی گیند پر کاٹ بی ہائینڈ آؤٹ دے دیا گیا۔ اس نے احتجاج کیا تو کپتان عمران نے اسے واپس بلا لیا۔ اگلی گیند پر ایک دفعہ پھر وہ کیپر کو کیچ دے بیٹھا اور خود ہی شرمندہ ہو کر پویلین کی جانب چل پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1992 ورلڈ کپ فائنل میں آئن بوتھم کو وسیم اکرم نے کاٹ بی ہائینڈ کروا دیا لیکن امپائر نے اسے آؤٹ نہ دیا۔ قبل اس کے کہ ہماری ٹیم احتجاج کرتی، کپتان عمران خان جو اس وقت وائیڈ گلی میں کھڑا تھا، اس نے فوراً سب کھلاڑیوں کو واپس اپنی پوزیشن پر جانے کو کہا، وسیم اکرم کے پاس آکر اسے کچھ ہنٹ دیا اور اپنے پرانے حریف بوتھم کو اشارے سے کہا کہ جاؤ، تمہیں دوسری باری دیتا ہوں۔

اگلی گیند پر بوتھم ایک مرتبہ پھر کیپر کو کیچ دے بیٹھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب 2 مئی 2016 کو پانامہ لیکس ہوا تو عمران خان نے نوازشریف سے 'رسیدیں' مانگیں۔ جب نوازشریف نے انکار کیا تو خان صاحب نے رائیونڈ کے تاریخی جلسے میں 'تلاشی دو' کا تاریخی مطالبہ کردیا۔ نوازشریف نے یہ بات بھی نہ مانی تو عمران خان نے لاک ڈاؤن کی دھمکی کے زریعے نوازشریف کو انڈر پریشر کیا اور پھر ایک منجھے ہوئے کھلاڑی کی طرح نوازشریف کو گھیر کر سپریم کورٹ لے گیا۔

اس وقت عمران خان پر جاہلوں نے بڑی تنقید کی کہ وہ سیاسی موت مر گیا، وغیرہ وغیرہ۔

پہلے سپریم کورٹ میں پھر جے آئی ٹی میں اور اب احتساب عدالت میں نوازشریف اور اس کی فیملی کی روزانہ کی بنیاد پر جو بے عزتی ہورہی ھے اس سے ثابت ہوتا ھے کہ لاک ڈاؤن ختم کرکے سپریم کورٹ میں یہ جنگ لڑنے کا خان صاحب کا فیصلہ بہت بڑی دانشمندی تھی۔

جو بات صرف رسیدوں سے شروع ہوئی تھی وہ اب 'دادا جی' کی کرپشن، پوتے پوتیوں کی منی لانڈرنگ، قطری شہزادے کے خط، مریم نواز کی کفالت سے دستبرداری، 90 کی دہائی میں فلیٹس کی ملکیت کے اعتراف، کلثوم نواز کے نام آفشور کمپنی کا اقرار، جادو کی بی ایم ڈبلیو اور حتی کہ نوازشریف کے بچوں کے فارم "ب" تک پہنچ چکی ھے۔

نوازشریف کو اگر تھوڑی بھی عقل ہوتی تو وہ چپ چاپ رسیدیں دے کر یا استعفی دے کر گھر چلا جاتا۔ ضدی عمران خان سے پنگا لے بیٹھا ھے، وہ اب اسے قبر تک پہنچا کر ہی دم لے گا۔

ڈیسمنڈ ہینز، سری کانت، آئن بوتھم اور اب نوازشریف۔ ان سب سے ایک غلطی ہوئی اور وہ تھی عمران خان کی صلاحیتوں کے بارے میں غلط اندازہ۔

اب یہ سب لوگ تاریخ کے کوڑے دان میں پڑے ہیں!!!

Comments
Loading...